لب بام
معنی
١ - چھت یا کوٹھے کے کنارے پر، چھت کی منڈیر پر، (مجازاً) زوال پذیر، مائل بغروب۔ "لب بام کھڑے پکار نہیں رہے آنے جانے والوں کو۔" ( ١٩٩٢ء، اردو نامہ، لاہور، ستمبر، ١٧ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'لب' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر فارسی صفت 'بام' لگانے سے مرکب اضافی 'لب بام' بنا۔ اردو میں بطور صفت اور گا ہے بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٥ء کو "کلیات قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چھت یا کوٹھے کے کنارے پر، چھت کی منڈیر پر، (مجازاً) زوال پذیر، مائل بغروب۔ "لب بام کھڑے پکار نہیں رہے آنے جانے والوں کو۔" ( ١٩٩٢ء، اردو نامہ، لاہور، ستمبر، ١٧ )